ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گروپ بندی قصہ پارینہ کی بات،مدھیہ پردیش میں اتحاد رہی ہماری طاقت:جیوتی سندھیا

گروپ بندی قصہ پارینہ کی بات،مدھیہ پردیش میں اتحاد رہی ہماری طاقت:جیوتی سندھیا

Mon, 10 Dec 2018 06:47:41    S.O. News Service

نئی دہلی،09؍ دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)کانگریس کے سینئر لیڈر جیوتی رادتیہ سندھیا نے اتوار کو کہا کہ کانگریس کی مدھیہ پردیش یونٹ میں گروپ بندی ماضی کی چیز ہے اور اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے ریاست کی پورے پارٹی قیادت نے متحدہ محاذ کی طرح کام کیا۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس کی مہم میںآگے رہے سندھیا نے کہا کہ ریاست میں تبدیلی کی امیدہے۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میری مہم کے دوران میں نے مدھیہ پردیش کے 115حلقوں کا دورہ کیا،وہاں تبدیلی کی امیدہے۔کچھ ایگزٹ پول (انتخابی سروے)میں ریاست میں 15سال کے بعد حکومت بنانے کیلئے کانگریس کی امیدجگی ہے۔وہیں کچھ اور سروے میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہے،گنتی 11دسمبر کو ہوگی۔ریاست میں 28نومبر کو اسمبلی کی 230نشستوں کے لئے انتخابات ہوئے۔یہ پوچھے جانے پر کہ اگر کانگریس جیتتی ہے تو کیا وہ خود کو وزیر اعلی کے عہدے کا مضبوط دعویدار مانتے ہیں؟ سندھیا نے کہا کہ وہ تصوراتی سوالات کا جواب نہیں دینا چاہتے۔ گونا سے ایم پی نے کہا کہ انہوں نے مسلسل کہا ہے کہ پوری کانگریس پارٹی کاہدف مدھیہ پردیش میں اقتدار سے بی جے پی کو ختم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک بار ہدف حاصل ہو جانے پر (وزیر اعلی کے بارے میں)اگلے قدم کو لے کر فیصلہ کرنا پارٹی قیادت کا کام ہے۔سندھیا مدھیہ پردیش میں کانگریس کے ٹاپ لیڈروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے 2014میں بی جے پی کے حق زبردست انتخابی لہر کے باوجود لوک سبھا انتخابات میں جیت حاصل کی۔ریاست میں اقتدار آنے کی صورت میں سندھیا اور کمل ناتھ کو وزیر اعلی کے عہدے کے اہم امیدواروں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ آیا کانگریس کی کامیابی کے درمیان وزیراعلی کاانتخاب کچھ سینئر رہنماؤں کو مایوس کر سکتا ہے؟ سندھیا نے کہا کہ بالکل نہیں،ہر کسی کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ہمیں اپنے ماضی سے سیکھنا ہوگا،ماضی میں ہمیں پارٹی کے اندر گروہ بندی کا سامنا کرنا پڑا ہے،تاہم وہ وقت گزر چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں اس پورے انتخابات میں سینئر رہنماؤں اور پارٹی کارکنوں سمیت پوری پارٹی مشینری نے متحدہ محاذکی طرح کام کیا ہے۔ سندھیا( (47نے کہا کہ اس بار ہماری طاقت ہماری مہم کے اتحاد میں ہے اور یہ آگے بھی رہے گی اور ضرور جاری رہنی چاہئے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا کانگریس گروپ بندی کا مقابلہ کرنے کے قابل ہے؟ سندھیا نے اس کا جواب ہاں میں دیا اور کہا کہ پارٹی میں گروپ بندی مکمل طور غیراہم مسئلہ ہے۔سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ میں نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ دو اسمبلی انتخابات میں ہمارے بھاجپا کو ٹکر نہ دینے کی ایک وجہ یہ تھی کہ ہم اچھی طرح مل کر کام نہیں کر رہے تھے، لیکن اب یہ گزرے وقت کی بات ہے۔سندھیا نے کہا کہ کانگریس کے صدر راہل گاندھی کی قیادت میں ریاستی قیادت نے ایک کانگریس کے طور پر کام کیا ہے۔


Share: